افق لکھنوی ۔۔۔ جب ہمیں جوشِ جنوں سوئے بیاباں لے چلا

جب ہمیں جوشِ جنوں سوئے بیاباں لے چلا
شہر سے ہم راہ اپنے فوجِ طفلاں لے چلا

ظلم سے تیرے ہمیں غم جان جانے کا نہیں
ہم نشانے پر کھڑے ہیں تیر تو ہاں لے چلا

وہ لیے جاتے ہیں اس دل کو جو لایا تھا انھیں
میزباں کو اپنے گھر میں آج مہماں لے چلا

جان لے لے کر ہتھیلی پر چلے لاکھوں شہید
سوئے مقتل جب وہ اپنی تیغِ براں لے چلا

اور امیدیں بر آئیں فضلِ خالق سے افق
پھر بھی غم ہے دل کے میں دل ہی میں ارماں لے چلا

Related posts

Leave a Comment